روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے

ماہر عبدالحی

روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے

    کوئی ہے دن کے اجالے میں کوئی رات میں ہے

    میں بھی مجموعۂ اضداد ہوں دنیا کی طرح

    کہیں صحرا کہیں گلزار مری ذات میں ہے

    ہے مرے گرد مری ماں کی دعاؤں کا حصار

    غم نہیں ہے کوئی دشمن جو مری گھات میں ہے

    میں تہی دست ہوں لیکن یہ پتہ ہے مجھ کو

    وہ مرے نام ہے جو چیز ترے ہات میں ہے

    دامن شب میں چمکتے ہیں ستاروں کی طرح

    عکس کس کا یہ مری خاک کے ذات میں ہے

    تیرگی خوف کی پہلو میں بسی ہے لیکن

    کچھ امیدوں کی چمک دل کے مضافات میں ہے

    مل ہی جائے گی کہیں پاؤں ٹکانے کی جگہ

    اب ستاروں کا جہاں میری فتوحات میں ہے

    مری پستی پہ بہت طنز نہ کر چشم فلک

    اس کو بھی دیکھ بلندی جو خیالات میں ہے

    ایک ہی رنگ میں رہتی ہے طبیعت ہر دم

    فرق جاڑے میں نہ گرمی میں نہ برسات میں ہے

    دل لرزتا ہے پس پردہ نہ ہو زہر کوئی

    کچھ زیادہ ہی مٹھاس اب کے تری بات میں ہے

    دیکھنا وہ بھی کہیں چھوٹ نہ جائے ماہرؔ

    جو چمکتا ہوا اک رنگ روایات میں ہے

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 107)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY