روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم

اسد علی خان قلق

روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم

اسد علی خان قلق

MORE BYاسد علی خان قلق

    روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم

    پرورش یافتۂ خانۂ صیاد ہیں ہم

    کس طرح سے نہ پسے دل رخ گندم گوں پر

    عاقبت حضرت آدم ہی کی اولاد ہیں ہم

    جو لڑکپن سے ہے گہوارۂ بیتابی کی

    ناز پروردۂ عشق ستم ایجاد ہیں ہم

    کیوں نہ ہو رنج‌ اسیری قفس سے راحت

    خانہ‌ زاد چمن گلشن بیداد ہیں ہم

    خسرو شہر ادا ہے جو وہ رشک شیریں

    کوہ اندوہ و غم و یاس کے فرہاد ہیں ہم

    دید صنعت سے ہے یاں غایت دید صانع

    اے بتو شیفتۂ حسن خداداد ہیں ہم

    قیل سے روکے اسے ہم پہ جب لاتے ہیں

    طفل اشک اپنے یہ کہتے ہیں کہ استاد ہیں ہم

    قید سے بھی نہ رہا ہو کے ہوا کچھ دل شاد

    مبتلائے غم تنہائی صیاد ہیں ہم

    چمن دہر میں بے وجہ نہیں ہیں نالاں

    عندلیب گل رخسارۂ صیاد ہیں ہم

    اپنی میراث میں ہیں دشت و جبل اے وحشت

    جانشیں قیس کے ہیں وارث فرہاد ہیں ہم

    ہتھکڑی کرتی ہے بیعت تو قدم لیتے ہیں خار

    تیرے دیوانے جو اے رشک پری زاد ہیں ہم

    قدر اپنی نہ جہاں میں ہوئی با وصف کمال

    صفت بوئے گل اس باغ میں برباد ہیں ہم

    شکوہ کرتا ہوں تباہی کے تو فرماتے ہیں

    خانہ بربادیٔ عشاق کی بنیاد ہیں ہم

    جاں نثاروں سے ہے تیغ نگۂ یار کا قول

    دم میں لاکھوں کو کریں قتل وہ جلاد ہیں ہم

    ہم شکایت نہیں کچھ کرتے تمہیں منصف ہو

    واجب الرحم ہیں یا قابل بیداد ہیں ہم

    ہم سمجھتے ہیں پڑھائی ہوئی باتیں نہ کرو

    طفل مکتب ہو تم اے جاں ابھی استاد ہیں ہم

    گیسوئے یار کے سودے نے کیا خانہ خراب

    کیا ہوا خواہی صیاد میں برباد ہیں ہم

    آج ہوتی ہے قلقؔ قطع امید دیدار

    نگراں اس لیے سوئے‌ رخ جلاد ہیں ہم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم نعمان شوق

    مأخذ :
    • Mazhar-e-Ishq

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY