رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا

اعزاز افصل

رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا

اعزاز افصل

MORE BYاعزاز افصل

    رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا

    رندوں کو سلیقے سے بہکنا بھی نہ آیا

    وہ لوگ مری طرز سفر جانچ رہے ہیں

    منزل کی طرف جن کو ہمکنا بھی نہ آیا

    تھا جن میں سلیقہ وہ بھری بزم میں روئے

    ہم کو تو کہیں چھپ کے سسکنا بھی نہ آیا

    ہم ایسے بلانوش کہ چھلکاتے ہی گزری

    تم ایسے تنک ظرف چھلکنا بھی نہ آیا

    ہم جاگ رہے تھے سو ابھی جاگ رہے ہیں

    اے ظلمت شب تجھ کو تھپکنا بھی نہ آیا

    للچائی کوئی زلف نہ مچلا کوئی دامن

    اس باغ کے پھولوں کو مہکنا بھی نہ آیا

    کم بخت سوئے دیر و حرم بھاگ رہی ہیں

    گلشن کی ہواؤں کو سنکنا بھی نہ آیا

    لہراتی ذرا پیاس ذرا کان ہی بجتے

    ان خالی کٹوروں کو کھنکنا بھی نہ آیا

    مأخذ :
    • کتاب : Kalam-e-aizaz afzal (Pg. 105)
    • Author : Aizaz Afzal
    • مطبع : Usmania Book Depot

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY