سامنے آؤ کہ میں چہرۂ زیبا دیکھوں

محبوب دہلوی

سامنے آؤ کہ میں چہرۂ زیبا دیکھوں

محبوب دہلوی

MORE BYمحبوب دہلوی

    سامنے آؤ کہ میں چہرۂ زیبا دیکھوں

    اور اس آئینے میں عکس پھر اپنا دیکھوں

    تم ہی منزل ہو تم ہی گوہر مقصود مرا

    دیکھ کر تم کو میں کیا اور تماشا دیکھوں

    تم ہی بتلاؤ کہ اس کار گہ ہستی میں

    کیا نہ دیکھوں میں اگر دیکھوں تو کیا کیا دیکھوں

    تجھ کو یہ ناز کوئی پا نہ سکے گا ہرگز

    مجھ کو یہ ضد کہ ترا نقش کف پا دیکھوں

    تو نے چاہا تو بہت گردش ایام کہ میں

    خود تماشا بنوں اپنا ہی تماشا دیکھوں

    کاش اس زیست میں وہ وقت بھی آئے محبوبؔ

    چار سو دہر میں ایماں کا اجالا دیکھوں

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 144)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY