صبر کرتا ہوں تو احساس زیاں بولتا ہے

رحمان جامی

صبر کرتا ہوں تو احساس زیاں بولتا ہے

رحمان جامی

MORE BYرحمان جامی

    صبر کرتا ہوں تو احساس زیاں بولتا ہے

    چپ جو رہتا ہوں تو پھر سارا جہاں بولتا ہے

    خاک ہونے کو ہے اب دل کی خبر بھی لے لو

    دل سے اٹھتا ہوا آہوں کا دھواں بولتا ہے

    سن کے ہوتا ہوں سبک سیر کہ وہ شوخ کبھی

    لفظ ارزاں ہیں تو چن چن کے گراں بولتا ہے

    تیرے بارے میں سب انجان ہوئے جاتے ہیں

    پوچھتا ہوں تو کوئی آ کے کہاں بولتا ہے

    اوڑھ لیتا ہے یقیں مصلحتاً چپ کا لحاف

    اس گھڑی سچ کی ہر اک بات گماں بولتا ہے

    گفتگو سنتا ہوں تیری ہی یہاں شام و سحر

    کچھ نہ کچھ مجھ سے ترا خالی مکاں بولتا ہے

    چاندنی میں جو کبھی آنکھ مچولی سے رچی

    تو کہاں ہے ترا ایک ایک نشاں بولتا ہے

    مل کے مسرور ہوا آج بہت جامیؔ سے

    وہ بھی میری ہی طرح اردو زباں بولتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY