سچ کہو کس نے لیا دل کہ جو پایا نہ گیا

عاشق حسین بزم آفندی

سچ کہو کس نے لیا دل کہ جو پایا نہ گیا

عاشق حسین بزم آفندی

MORE BYعاشق حسین بزم آفندی

    سچ کہو کس نے لیا دل کہ جو پایا نہ گیا

    یاں ہمیں تم ہیں کوئی اور نہ آیا نہ گیا

    دل میں تھی آگ لگی دیدۂ تر کو دیکھو

    گھر جلا پاس کا اور اس سے بجھایا نہ گیا

    دن یہ فرقت کا بڑھا چار پہر ساعت بھر

    پائے دیوار سے ہٹ کر کہیں سایا نہ گیا

    دل تڑپتا رہا پھر ضعف کے باعث مجھ سے

    ضبط کا اپنے بھی احسان اٹھایا نہ گیا

    دل مرا مر کے رہا آٹھ پہر پہلو میں

    ہائے محتاج کا مردہ تھا اٹھایا نہ گیا

    وعدہ کر کر کے جگایا مجھے راتوں کو مگر

    میری سوتی ہوئی قسمت کو جگایا نہ گیا

    یا تو یہ شوق تھا حال ان کو سناؤں جو ملیں

    وائے قسمت جو ملے وہ تو سنایا نہ گیا

    غیر جب ہو گیا ناراض منانے کو گئے

    ایک دن روٹھ گیا میں تو منایا نہ گیا

    بزم سے اس کی چلے آؤ جو بگڑا وہ بت

    بیٹھنے کو کوئی فقرہ بھی بنایا نہ گیا

    میرے مرنے کی خبر سن کے بھلا کیا آتے

    ان سے اک بار عیادت کو بھی آیا نہ گیا

    ان کی مہندی کی رہی خوب جمالی رنگت

    ہم سے تو رنگ بھی محفل میں جمایا نہ گیا

    مٹ گئے سنگ در یار پہ گھس گھس کے جبیں

    اپنی تقدیر کے لکھے کو مٹایا نہ گیا

    دونوں مجبور رہے ضعف و نزاکت کے سبب

    ہم وہاں جا نہ سکے یار سے آیا نہ گیا

    دور بیٹھا ہوا بھی ہم کو نہ وہ دیکھ سکے

    بزم میں غیر کو پہلو سے اٹھایا نہ گیا

    اس نزاکت پہ نہ کیوں جان کو قرباں کر دوں

    کہ گلے پر مرے خنجر بھی پھرایا نہ گیا

    ایک شب عرش پہ محبوب کو بلوا ہی لیا

    ہجر وہ غم ہے خدا سے بھی اٹھایا نہ گیا

    بزمؔ طاقت یہ گھٹی ہجر کی شب آہ جو کی

    دل سے لب تک کئی ٹھیکوں میں بھی آیا نہ گیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے