سچ کے چہرے پر جمی یہ گرد بھی جاتی نہیں
سچ کے چہرے پر جمی یہ گرد بھی جاتی نہیں
اور مجھ سے جھوٹ کی تعریف کی جاتی نہیں
روشنی دینے سے پہلے شرط ایسی لاد دی
روشنی بھی روشنی ہم سے کہی جاتی نہیں
ہو گیا ہے آدمی جب آنسوؤں سے تربتر
کیوں بھلا پھر پاپ کی گاگر بھری جاتی نہیں
چاند سورج پھول جھرنے سب ہمارے ہی تو ہیں
بات اپنی مفلسی کی ہم سے کی جاتی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.