صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ

افتخار شاھد ابو سعد

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ

افتخار شاھد ابو سعد

MORE BYافتخار شاھد ابو سعد

    صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ

    دروں کا شور مری خامشی سے شرمندہ

    کہو تو آج ذرا سا سنوار لوں خود کو

    کہ آئینے ہیں مری سادگی سے شرمندہ

    عجیب دوہری عزت کا سامنا ہے انہیں

    کوئی کسی سے تو کوئی کسی سے شرمندہ

    ہمارے ہاتھ جو دستک نہ دے سکے در پر

    ہمارے ہاتھ رہے اس کجی سے شرمندہ

    ہم اپنی خاک جہاں میں اڑائے پھرتے ہیں

    اے شہر یار تمہاری گلی سے شرمندہ

    ہم اس صدی میں بھی منزل سے آشنا نہ ہوئے

    یہ اور بات ہے پچھلی صدی سے شرمندہ

    ہے میرے پاس یہ لکنت زدہ زباں شاہدؔ

    اے خوش کلام تری نغمگی سے شرمندہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY