سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے

مضطر خیرآبادی

سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے

    کہاں تک جان پر کھیلیں جدائی دیکھنے والے

    ترے بیمار غم کی اب تو نبضیں بھی نہیں ملتیں

    کف افسوس ملتے ہیں کلائی دیکھنے والے

    خدا سے کیوں نہ مانگیں کیوں کریں منت امیروں کی

    یہ کیا دیں گے کسی کو آنہ پائی دیکھنے والے

    بتوں کی چاہ بنتی ہے سبب عشق الٰہی کا

    خدا کو دیکھ لیتے ہیں خدائی دیکھنے والے

    مہینوں بھائی بندوں نے مرا ماتم کیا مضطرؔ

    مہینوں روئے خالی چارپائی دیکھنے والے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 318)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY