صحرا میں مروں گا نہ چمن جا کے مروں گا
صحرا میں مروں گا نہ چمن جا کے مروں گا
اس کوچۂ دشنام میں ہی آ کے مروں گا
اعزاز ہے الفت کے مراحل سے گزرنا
اٹھلاؤں گا اتراؤں گا لہرا کے مروں گا
کہتے ہیں مجھے لوگ خداوند محبت
سو حکم وفا حسن کو فرما کے مروں گا
میں حسن نہیں عشق ہوں پھر بھی سر محفل
صد ناز و ادا دلبری دکھلا کے مروں گا
اس بار مروں گا میں نئی عمر کی خاطر
اس بار تو مرنے کا صلہ پا کے مروں گا
میں مر بھی چکا کب سے نہیں مانتا کوئی
خود لاش کو اپنی کہیں دفنا کے مروں گا
اس زود فراموش کی آمد بھی ہے امشب
رک دست قضا آج میں کل آ کے مروں گا
غیروں کی عنایات بھی کھولوں گا میں تجھ پر
اپنوں کے سبھی داؤ بھی سمجھا کے مروں گا
دیوار میں چنوا دو مجھے شوق سے لیکن
ہر دل کو بغاوت پہ میں اکسا کے مروں گا
زندہ ہوں امرؔ کرب مسلسل میں ابھی تک
میں اپنے گناہوں کی سزا پا کے مروں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.