سیلابوں کے بعد ہم ایسے دیوانے ہو جاتے ہیں

محسن اسرار

سیلابوں کے بعد ہم ایسے دیوانے ہو جاتے ہیں

محسن اسرار

MORE BYمحسن اسرار

    سیلابوں کے بعد ہم ایسے دیوانے ہو جاتے ہیں

    اپنے گھر سے اس کے گھر تک پہروں دوڑ لگاتے ہیں

    ہم نے اپنے ہاتھ زمیں میں داب رکھے ہیں اس ڈر سے

    دست طلب پھیلانے والے دیوانے کہلاتے ہیں

    ان آنکھوں کی سیوا کر کے ہم نے جادو سیکھ لیا

    جب بھی طبیعت گھبراتی ہے پتھر کے ہو جاتے ہیں

    اپنے ہجر کی بات الگ ہے اپنا عشق مسلسل ہے

    خود سے بچھڑنے لگتے ہیں تو اس کے گھر ہو آتے ہیں

    آدھی رات کو ہستی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے

    بام و در کے سناٹے جب آپس میں ٹکراتے ہیں

    جانے کتنی گرد جمی ہو خد و خال پہ رستوں کی

    اس ڈر سے ہم اپنے گھر میں دستک دے کر جاتے ہیں

    اب اس پر الزام رکھے یہ خلق خدا تو کیا کہیے

    ہم تو اس کی باتیں کر کے اپنا دل بہلاتے ہیں

    جس دن اس کی یاد آتی ہے جیت سی اپنی ہوتی ہے

    رستہ رستہ کوچہ کوچہ پرچم سے لہراتے ہیں

    پہلے پروائی سے دل میں ایک کسک سی اٹھتی تھی

    اب یہ موسم کچھ نہیں کرتے لیکن خواب دکھاتے ہیں

    میں نے اپنے جوش میں آ کر رقص کیا تھا خود محسنؔ

    لیکن میری بستی والے اس کا نام بتاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے