سمندر دشت پر بت کاٹتی ہے

منیر سیفی

سمندر دشت پر بت کاٹتی ہے

منیر سیفی

MORE BY منیر سیفی

    سمندر دشت پر بت کاٹتی ہے

    مصیبت کو مصیبت کاٹتی ہے

    چھپاؤں سر تو کھل جاتا ہے پاؤں

    ضرورت کو ضرورت کاٹتی ہے

    زمیں کرتی ہے باتیں آسماں سے

    یہاں ہر شے کی قیمت کاٹتی ہے

    مزہ فٹپاتھ کا پوچھو نہ یارو

    امارت کی مجھے چھت کاٹتی ہے

    فقیری میں ہے اتنا لطف یارو

    کہ مجھ کو بادشاہت کاٹتی ہے

    غنیمت جانیے جنگل میں بسنا

    ہمیں اب آدمیت کاٹتی ہے

    بزرگوں کا کہا کب مانتے ہیں

    کہ بچوں کو نصیحت کاٹتی ہے

    بدن میں چبھتی ہیں نظروں کی کرچیں

    اسے لوگوں کی نیت کاٹتی ہے

    ہوا ہوں اس قدر بدنام سیفیؔ

    مجھے اب میری شہرت کاٹتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY