سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا

خواجہ محمد وزیر

سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا

خواجہ محمد وزیر

MORE BYخواجہ محمد وزیر

    سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا

    کس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گا

    تھام لوں دل کو ذرا ہاتھوں سے

    ابھی پہلو سے نہ اٹھ جائیے گا

    کہئے یاران عدم کیا گزری

    کچھ لب گور سے فرمائیے گا

    یوسف حسن اگر غم ہوگا

    آپ یعقوب نظر آئیے گا

    کر کے اثبات دہن کیجئے وصف

    دیکھیے منہ کی ابھی کھائیے گا

    کم بھی دینے میں بہت فائدہ ہے

    بوسہ اک دیجئے دس پائیے گا

    خط پہ خط لکھیے‌ گا اے شاہ سوار

    گھوڑی کاغذ کی بھی دوڑائیے گا

    مردم چشم سے آئے جو حجاب

    آنکھ کے پردے میں چھپ جائیے گا

    کیا گریباں نے گلا گھونٹا ہے

    ادھر اے دست جنوں آئیے گا

    کہہ کے پاؤں سے چلے یار کے گھر

    ہم جو اٹھنے لگیں سو جائیے گا

    کہہ کے یہ تم ہو بڑے ہر بابے

    در بدر کیا مجھے پھروائیے گا

    کیوں بناوٹ سے اجی روتے ہیں آپ

    جھوٹے موتی کسے دکھلائیے گا

    جام ساقی سے جو مانگا تو کہا

    بھر کے اشک آنکھ میں پی جائیے گا

    مصحف رخ کی قسم میں ہے مزہ

    ہم سے قرآن یہ اٹھوائیے گا

    خط غلامی کا نہیں اے یوسف

    خط جو نکلا ہے نہ شرمایئے گا

    ہم نے یوسف جو کہا کیوں بگڑے

    مول لے گا کوئی بک جائیے گا

    حضرت کعبہ جو بن جائیے عرش

    دل کی وسعت نہ کبھی پائیے گا

    ہم بھی آ نکلیں گے مسجد میں وزیرؔ

    خشت خم لے کے جو بنوائیے گا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY