سراب دیکھتا ہوں میں کہ آب دیکھتا ہوں میں

ماہر عبدالحی

سراب دیکھتا ہوں میں کہ آب دیکھتا ہوں میں

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    سراب دیکھتا ہوں میں کہ آب دیکھتا ہوں میں

    سمجھ میں جو نہ آ سکے وہ خواب دیکھتا ہوں میں

    لہوں میں تیرتی ہے کوئی شے تری امید سی

    اگا ہوا شفق میں آفتاب دیکھتا ہوں میں

    مری نظر کے سامنے ہے آئنہ رکھا ہوا

    تری نظر کا حسن انتخاب دیکھتا ہوں میں

    یہ کس مقام پر ہے آج رخش فکر و آگہی

    کہ جبرئیل کو بھی ہم رکاب دیکھتا ہوں میں

    یہ کوئی نذر تو نہیں نگاہ دل نواز کی

    کھلا ہوا جو دل میں اک گلاب دیکھتا ہوں میں

    کسی کا دامن طلب کشادہ اس قدر نہیں

    تری عطا کو بے حد و حساب دیکھتا ہوں میں

    سمجھ سکے گا کون اے خدا تری کتاب کو

    بدل گیا ہے سب کا سب نصاب دیکھتا ہوں میں

    ابھی تو سن رہا ہوں میں گڑھی ہوئی کہانیاں

    کھلے گا کب حقیقتوں کا باب دیکھتا ہوں میں

    دل و نظر کی روشنی ہے جس کے حرف حرف میں

    رکھی ہوئی وہ طاق پر کتاب دیکھتا ہوں میں

    جو کھیلنے میں تیز تھا نواب ہو گیا ہے وہ

    پڑھے لکھے کو خستہ و خراب دیکھتا ہوں میں

    وہ ہوشیار آدمی کہ جاگتا ہے رات دن

    کبھی کبھی اسے بھی مست خواب دیکھتا ہوں میں

    جو ماہرؔ الم زدہ کے لب پہ آ گئی ہنسی

    تو کھا رہا ہے کوئی پیچ و تاب دیکھتا ہوں میں

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 81)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY