سوالوں میں خود بھی ہے ڈوبی اداسی

آلوک مشرا

سوالوں میں خود بھی ہے ڈوبی اداسی

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    سوالوں میں خود بھی ہے ڈوبی اداسی

    کہیں لے نہ ڈوبے مجھے بھی اداسی

    شب و روز چلتی ہے پہلو سے لگ کر

    گلے پڑ گئی ایک ضدی اداسی

    فضاؤں کی رنگت نکھرنے لگی ہے

    ہوئی شام پھر دل میں لوٹی اداسی

    ذرا چاند کیا آیا میری طرف کو

    ستاروں نے جل بھن کے اوڑھی اداسی

    شبستاں میں غم کی نہ شمعیں جلاؤ

    کہیں جاگ جائے نہ سوئی اداسی

    ذرا دیر لوگوں میں کھل کر ہنسی پھر

    سر بزم آنکھوں سے ٹپکی اداسی

    اسے یاد تھی کل کی تاریخ شاید

    سسکتی رہی لے کے ہچکی اداسی

    جمی تھی مرے سرد سینے میں کب سے

    تپش پا کے اشکوں کی پگھلی اداسی

    کترتی ہے دل کے شجر کی یہ خوشیاں

    تری یاد ہے یا گلہری اداسی

    کبھی ہم تھے جن کی دعاؤں میں شامل

    انہیں تک نہ پہنچی ہماری اداسی

    تری یاد کے اب نشاں تک نہیں ہم

    مگر دل میں رہتی ہے اب بھی اداسی

    نگاہوں میں حد نظر تک ہے رقصاں

    اداسی اداسی اداسی اداسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY