سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر

رفیق راز

سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر

    مدتوں بعد کوئی پھول کھلا دھرتی پر

    جانے اس کرۂ تاریک میں ہے نور کہاں

    جانے کس آنکھ میں ہے خواب ترا دھرتی پر

    آسمانوں سے خموشی بھی کبھی نازل کر

    روز کرتے ہو نیا حشر بپا دھرتی پر

    آسمانوں میں الجھتے ہو سیہ ابر سے کیوں

    آ فقیروں کی طرح خاک اڑا دھرتی پر

    اب بھی ہلتا ہے مرا نخل بدن سر تا پا

    اب بھی چلتی ہے ہوس ناک ہوا دھرتی پر

    کوئی آواز کہیں سے بھی نہیں آتی ہے

    قاف تا قاف ہے کیسا یہ خلا دھرتی پر

    اب بھی وابستہ ہیں امیدیں تمہیں سے ہم کو

    اب بھی ہوتی ہے تری حمد و ثنا دھرتی پر

    ہجر کی زرد ہوا یوں ہی اگر چلتی رہے

    ایک بھی پیڑ رہے گا نہ ہرا دھرتی پر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے