شب ہجر یوں دل کو بہلا رہے ہیں

منظر لکھنوی

شب ہجر یوں دل کو بہلا رہے ہیں

منظر لکھنوی

MORE BYمنظر لکھنوی

    شب ہجر یوں دل کو بہلا رہے ہیں

    کہ دن بھر کی بیتی کو دہرا رہے ہیں

    مرے دل کے ٹکڑے کیے جا رہے ہیں

    محبت کی تشریح فرما رہے ہیں

    مرا درد جا ہی نہیں سکتا توبہ

    خدائی کے دعوے کیے جا رہے ہیں

    ہنسی آنے کی بات ہے ہنس رہا ہوں

    مجھے لوگ دیوانہ فرما رہے ہیں

    عجب شے ہے سوز و گداز محبت

    کہ دل جلنے میں بھی مزے آ رہے ہیں

    اسی بے وفا پاس پھر کچھ امیدیں

    لیے جا رہی ہیں چلے جا رہے ہیں

    ضدیں توبہ توبہ ہٹیں اللہ اللہ

    ہمیں ہیں جو اس دل کو بہلا رہے ہیں

    مری رات کیوں کر کٹے گی الٰہی

    مجھے دن کو تارے نظر آ رہے ہیں

    نہ آغاز الفت کا اچھا تھا منظرؔ

    نہ انجام اچھے نظر آ رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY