شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی

ذوالفقار عادل

شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی

    دل پر دل کی ضرب لگائی ایک محبت جاری کی

    کشتی کو کشتی کہہ دینا ممکن تھا آسان نہ تھا

    دریاؤں کی خاک اڑائی ملاحوں سے یاری کی

    کوئی حد کوئی اندازہ کب تک کرتے جانا ہے

    خندق سے خاموشی گہری اس سے گہری تاریکی

    اک تصویر مکمل کر کے ان آنکھوں سے ڈرتا ہوں

    فصلیں پک جانے پر جیسے دہشت اک چنگاری کی

    ہم انصاف نہیں کر پائے دنیا سے بھی دل سے بھی

    تیری جانب مڑ کر دیکھا یعنی جانب داری کی

    خواب ادھورے رہ جاتے ہیں نیند مکمل ہونے سے

    آدھے جاگے آدھے سوئے غفلت بھر ہشیاری کی

    جتنا ان سے بھاگ رہا ہوں اتنا پیچھے آتی ہیں

    ایک صدا جاروب کشی کی اک آواز بھکاری کی

    اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو

    الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی

    گھٹتے بڑھتے سائے سے عادلؔ لطف اٹھایا سارا دن

    آنگن کی دیوار پہ بیٹھے ہم نے خوب سواری کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY