شگفتہ آج کچھ دل کی کلی معلوم ہوتی ہے

محمد نعیم اللہ خیالی

شگفتہ آج کچھ دل کی کلی معلوم ہوتی ہے

محمد نعیم اللہ خیالی

MORE BYمحمد نعیم اللہ خیالی

    شگفتہ آج کچھ دل کی کلی معلوم ہوتی ہے

    بہار خندۂ گل زندگی معلوم ہوتی ہے

    وہ میرے دل کی کہتے ہیں میں ان کے دل کی کہتا ہوں

    محبت اتفاق باہمی معلوم ہوتی ہے

    مکر جائیں وہ وعدہ سے مجھے باور نہیں آتا

    خلاف شان خو یہ حسن کی معلوم ہوتی ہے

    وہی دن ہیں وہی راتیں وہی ہم ہے وہی باتیں

    مگر پھر بھی کسی شے کی کمی معلوم ہوتی ہے

    نسیم آئی بہار آئی پیام جاں فزا لائی

    خیالیؔ زندگی اب زندگی معلوم ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY