شمع میں سوز کی وہ خو ہے نہ پروانے میں

رشید شاہجہانپوری

شمع میں سوز کی وہ خو ہے نہ پروانے میں

رشید شاہجہانپوری

MORE BYرشید شاہجہانپوری

    دلچسپ معلومات

    1937ء

    شمع میں سوز کی وہ خو ہے نہ پروانے میں

    جو ہے اے برق شمائل ترے دیوانے میں

    لطف تھا ذکر دل سوختہ دہرانے میں

    سوز ہے ساز کہاں طور کے افسانے میں

    تھا جو اس چشم فسوں ساز کے پیمانے میں

    کیف وہ ڈھونڈئیے اب کون ہے میخانے میں

    واسطہ دست نگاریں کا تجھے اے قاتل

    ایک سرخی کی کمی ہے مرے افسانے میں

    جو کبھی تھا وہی ہے آج بھی افسانۂ عشق

    ایک دو لفظ بدل جاتے ہیں دہرانے میں

    موت بھی منحصر ان کی نگہ ناز پہ تھی

    اب نہیں کوئی کمی عشق کے افسانے میں

    وہی شے جو ابھی مینا میں تھی اک موج نشاط

    وہی طوفان طرب بن گئی پیمانے میں

    قول واعظ کا بجا شیخ کی تلقین درست

    دل کافر کہیں آئے بھی تو سمجھانے میں

    قید ہستی کو سمجھتا ہے جنوں کی توہین

    اب تو کچھ ہوش کے انداز ہیں دیوانے میں

    شکر بن جاتے ہیں آتے ہی زباں تک شکوے

    جانے کیا بات ہے اس آنکھ کے شرمانے میں

    کس طرح حضرت واعظ کو یہ سمجھاؤں رشیدؔ

    رند کیا دیکھ لیا کرتے ہیں پیمانے میں

    مأخذ :
    • Dast-e-nigaaren

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY