شمع روشن کوئی کر دے مرے غم خانے میں

سید اعجاز احمد رضوی

شمع روشن کوئی کر دے مرے غم خانے میں

سید اعجاز احمد رضوی

MORE BYسید اعجاز احمد رضوی

    شمع روشن کوئی کر دے مرے غم خانے میں

    جانے کب سے یہاں بیٹھا ہوں صنم خانے میں

    لذت سوزش غم جان وفا آہ نہ پوچھ

    کتنی تسکین ملی آپ کو تڑپانے میں

    خرمن دل پہ گری ہے تو کوئی بات نہیں

    ڈر ہے کوندی نہ ہو بجلی ترے کاشانے میں

    دل میں اب کوئی بھی حسرت نہیں ارمان نہیں

    کچھ نہیں کچھ بھی نہیں اب مرے غم خانے میں

    میں ہی آرائش افسانہ بنا آہ مگر

    اب مرا نام نہیں آپ کے افسانے میں

    یوں بھی اکثر تری آواز سنی ہے میں نے

    سسکیاں لیتا ہو جیسے کوئی ویرانے میں

    آپ لائیں تو یہ دامن مری آنکھوں کے قریب

    میں بھی کچھ پیش کروں آپ کو نذرانے میں

    کتنی معصوم سی پیاری سی خطا کر بیٹھے

    بھول رضویؔ سے ہوئی ہے کوئی انجانے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY