شراب خانہ ترا ایسا انتخاب نہیں ہے

کمال احمد صدیقی

شراب خانہ ترا ایسا انتخاب نہیں ہے

کمال احمد صدیقی

MORE BYکمال احمد صدیقی

    شراب خانہ ترا ایسا انتخاب نہیں ہے

    خواص پیتے ہیں سب کے لیے شراب نہیں ہے

    شکار ظلم کا جو ہیں انہیں پہ ہے ہر شدت

    وہ جو ہیں ظالم ان پر کوئی عتاب نہیں ہے

    یہ تیرا فرض ہے ساقی ملے سبھی کو برابر

    ہے تیرا منصب ساقی کوئی خطاب نہیں ہے

    یہاں تو کوئی نہیں آدمی سبھی ہیں فرشتے

    مرے علاوہ یہاں پر کوئی بھی خراب نہیں ہے

    فروغ کیفیت بادہ سے ہوا ہے یہ شاداب

    نہ پڑھ یہ چہرہ مرا یہ کوئی کتاب نہیں ہے

    سراب واہمہ نظروں کے سامنے موجود

    دھڑک رہا ہے جو ادراک میں سراب نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY