تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں

ساغر صدیقی

تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں

ساغر صدیقی

MORE BYساغر صدیقی

    تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں

    اے ساکنان خلد سنو میں نشے میں ہوں

    کچھ پھول کھل رہے ہیں سر شاخ مے کدہ

    تم ہی ذرا یہ پھول چنو میں نشے میں ہوں

    ٹھہرو ابھی تو صبح کا مارا ہے ضو فشاں

    دیکھو مجھے فریب نہ دو میں نشے میں ہوں

    نشہ تو موت ہے غم ہستی کی دھوپ میں

    بکھرا کے زلف ساتھ چلو میں نشے میں ہوں

    میلہ یوں ہی رہے یہ سر رہ گزار زیست

    اب جام سامنے ہی رکھو میں نشے میں ہوں

    پائل چھنک رہی ہے نگار خیال کی

    کچھ اہتمام رقص کرو میں نشے میں ہوں

    میں ڈگمگا رہا ہوں بیابان ہوش میں

    میرے ابھی قریب رہو میں نشے میں ہوں

    ہے صرف اک تبسم رنگیں بہت مجھے

    ساغرؔ بہ دوش لالہ رخو میں نشے میں ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے