شکست آبلۂ دل میں نغمگی ہے بہت

صادق نسیم

شکست آبلۂ دل میں نغمگی ہے بہت

صادق نسیم

MORE BYصادق نسیم

    شکست آبلۂ دل میں نغمگی ہے بہت

    سنے گا کون کہ دنیا بدل گئی ہے بہت

    ہر ایک نقش میں ہے نا تمامیوں کی جھلک

    ترے جہاں میں کسی چیز کی کمی ہے بہت

    گلے لگا کے گل و نسترن کو رویا ہوں

    کہ مجھ کو نظم گلستاں سے آگہی ہے بہت

    یہاں کسی کا بھی چہرہ دکھائی دے نہ سکے

    حریم دل میں تمنا کی روشنی ہے بہت

    میں ایک لمحہ بھی مانند شمع جل نہ سکوں

    وہ ایک شب کے لیے ہی سہی جلی ہے بہت

    ہے خود فریب بہت میرے عہد کا فن کار

    ہنر نہیں بھی تو شور ہنر وری ہے بہت

    لبوں پہ جاں ہو تو احساس‌ تلخ و شیریں کیا

    کہیں سے زہر ہی لاؤ کہ تشنگی ہے بہت

    خرد کو ناز ہے کیوں رسم کجکلاہی پر

    سر جنوں کے لیے مشت خاک بھی ہے بہت

    گراں ہے جنس وفا اور مشتری نایاب

    ہزار بار لٹا ہوں کہ دل غنی ہے بہت

    عجب نشاط کے پہلو غم حبیب میں ہیں

    کہ ڈوبتی نہیں یہ ناؤ ڈولتی ہے بہت

    تمہارا نام کسی اجنبی کے لب پر تھا

    ذرا سی بات تھی دل کو مگر لگی ہے بہت

    دم وداع میں یوں مسکرا رہا ہوں نسیمؔ

    کہ جیسے ان سے جدائی کی بھی خوشی ہے بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY