شعلۂ گل گلاب شعلہ کیا

بشیر بدر

شعلۂ گل گلاب شعلہ کیا

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    شعلۂ گل گلاب شعلہ کیا

    آگ اور پھول کا یہ رشتہ کیا

    تم مری زندگی ہو یہ سچ ہے

    زندگی کا مگر بھروسا کیا

    کتنی صدیوں کی قسمتوں کا میں

    کوئی سمجھے بساط لمحہ کیا

    جو نہ آداب دشمنی جانے

    دوستی کا اسے سلیقہ کیا

    کام کی پوچھتے ہو گر صاحب

    عاشقی کے علاوہ پیشہ کیا

    بات مطلب کی سب سمجھتے ہیں

    صاحب نشہ‌ غرق بادہ کیا

    دل دکھوں کو سبھی ستاتے ہیں

    شعر کیا گیت کیا فسانہ کیا

    سب ہیں کردار اک کہانی کے

    ورنہ شیطان کیا فرشتہ کیا

    دن حقیقت کا ایک جلوہ ہے

    رات بھی ہے اسی کا پردہ کیا

    تو نے مجھ سے کوئی سوال کیا

    کاروان حیات رفتہ کیا

    جان کر ہم بشیرؔ بدر ہوئے

    اس میں تقدیر کا نوشتہ کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY