شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے

عرفان صدیقی

شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے

    وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے

    اس کو منظور نہیں ہے مری گمراہی بھی

    اور مجھے راہ پہ لانا بھی نہیں چاہتا ہے

    جب سے جانا ہے کہ میں جان سمجھتا ہوں اسے

    وہ ہرن چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتا ہے

    سیر بھی جسم کے صحرا کی خوش آتی ہے مگر

    دیر تک خاک اڑانا بھی نہیں چاہتا ہے

    کیسے اس شخص سے تعبیر پہ اصرار کریں

    جو ہمیں خواب دکھانا بھی نہیں چاہتا ہے

    اپنے کس کام میں لائے گا بتاتا بھی نہیں

    ہم کو اوروں پہ گنوانا بھی نہیں چاہتا ہے

    میرے لفظوں میں بھی چھپتا نہیں پیکر اس کا

    دل مگر نام بتانا بھی نہیں چاہتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY