شور ہے چیخ ہے صدا ہے غزل

عرفان عابدی مانٹوی

شور ہے چیخ ہے صدا ہے غزل

عرفان عابدی مانٹوی

MORE BYعرفان عابدی مانٹوی

    شور ہے چیخ ہے صدا ہے غزل

    زخم ہے درد ہے دوا ہے غزل

    آرزو شوق چاہ چین سکوں

    کرب ہے ضبط ہے بکا ہے غزل

    ہجر میں بھی شب فراق میں بھی

    ہم سفر بھی ہے ہم نوا ہے غزل

    ماہ و انجم بھی چاند سورج بھی

    جس میں رہتے ہیں وہ سما ہے غزل

    میں تھا مدہوش دید چشم غزال

    ہوش میں لانے کی ہوا ہے غزل

    اشک آنکھوں کے پوچھنے کے لئے

    میری چادر مری ردا ہے غزل

    درد جتنے چھپے ہیں پہلو میں

    راز سارے تمہیں پتہ ہے غزل

    خوب صورت کوئی نہیں دکھتا

    میری خاطر جو مہ لقا ہے غزل

    میرے حالات نے وفا نہ کیا

    غم نہیں کیونکہ با وفا ہے غزل

    میری تنہائی کی یہ ساتھی ہے

    لوگ کہتے ہیں کہ بلا ہے غزل

    اشک پلکوں تلک نہ آنے دیا

    کتنی معصوم و با حیا ہے غزل

    رعب ہو خوف یا پشیمانی

    کوئی تجھ میں نہیں دکھا ہے غزل

    میری خاموشیوں کو توڑنے کا

    وہ قریں میرے اسلحہ ہے غزل

    میرے دل کا اشارہ جانتی ہے

    اس قدر مجھ سے آشنا ہے غزل

    نثر میں خوب آتی رہتی ہے

    شعر میں جانے کیوں خفا ہے غزل

    مجھ سے پوچھا گیا ملو گے کہاں

    میں نے کاغذ پہ لکھ دیا ہے غزل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY