سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہے

ظفر اقبال

سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہے

    وہ جینا کس کی خاطر تھا یہ مرنا کس لیے ہے

    محبت بھی ہے اور اپنا تقاضا بھی نہیں کچھ

    ہم اس سے صاف کہہ دیں گے مکرنا کس لیے ہے

    جھجھکنا ہے تو اس کے سامنے ہونا ہی کیسا

    جو ڈرنا ہے تو دریا میں اترنا کس لیے ہے

    مسافت خواب ہے تو خواب میں اب جاگنا کیا

    اگر چل ہی پڑے ہیں تو ٹھہرنا کس لیے ہے

    نہ کرنے سے بھی ہوتا ہو جہاں سب کا گزارہ

    وہاں آخر کسی نے کام کرنا کس لیے ہے

    اگر رکنا نہیں اس نے ہمارے پاس تو پھر

    ہمارے راستے پر سے گزرنا کس لیے ہے

    وہ کہہ دے گا تو اٹھ جائیں گے اس کی بزم سے ہم

    مناسب ہی نہیں لگتا پسرنا کس لیے ہے

    ظفرؔ اس پر اثر تو کوئی ہوتا ہے نہ ہوگا

    تو پھر یہ روز کا بننا سنورنا کس لیے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY