سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو

شاہین عباس

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو

    یہ طاق چشم اب اتنا بھی کیا خراب نہ ہو

    ہر آنے والا اسی طرح سے تجھے چاہے

    مری بنائی ہوئی یہ فضا خراب نہ ہو

    ازل ابد میں ٹھنی ہے سو میں نکلتا ہوں

    مری کڑی سے ترا سلسلہ خراب نہ ہو

    ہم اس ہوا سے تو کہتے ہیں کیوں بجھایا چراغ

    کہیں چراغ کی اپنی ہوا خراب نہ ہو

    میں اپنی شرط پہ آیا تھا اس خرابے میں

    سو میرے ساتھ کوئی دوسرا خراب نہ ہو

    مری خرابی کو یکجا کرو کہیں نہ کہیں

    مرا معاملہ اب جا بہ جا خراب نہ ہو

    خراب ہوں بھلے اس اشتہا میں ہم اور تم

    پر ایک دوسرے کا ذائقہ خراب نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY