سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا

عبد الاحد ساز

سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا

عبد الاحد ساز

MORE BYعبد الاحد ساز

    سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا

    جب بھی آئینہ دیکھا خود کو دوسرا پایا

    ہونٹ پر دیا رکھنا دل جلوں کی شوخی ہے

    ورنہ اس اندھیرے میں کون مسکرا پایا

    بول تھے دوانوں کے جن سے ہوش والوں نے

    سوچ کے دھندلکوں میں اپنا راستہ پایا

    اہتمام دستک کا اپنی وضع تھی ورنہ

    ہم نے در رسائی کا بارہا کھلا پایا

    فلسفوں کے دھاگوں سے کھینچ کر سرا دل کا

    وہم سے حقیقت تک ہم نے سلسلہ پایا

    عمر یا زمانے کا کھیل ہے بہانے کا

    سب نے ماجرا دیکھا کس نے مدعا پایا

    شاعری طلب اپنی شاعری عطا اس کی

    حوصلے سے کم مانگا ظرف سے سوا پایا

    سازؔ جب کھلا ہم پر شعر کوئی غالبؔ کا

    ہم نے گویا باطن کا اک سراغ سا پایا

    مآخذ :
    • کتاب : sargoshiyan zamanon ki (Pg. 63)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY