سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا

جوشؔ ملیح آبادی

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا

جوشؔ ملیح آبادی

MORE BY جوشؔ ملیح آبادی

    سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا

    جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا

    وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ

    جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا

    دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

    جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

    اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار

    پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا

    اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد

    اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا

    اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی

    جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا

    میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت

    میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا

    مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید

    لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا

    کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام

    وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites