صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے

علی سردار جعفری

صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے

علی سردار جعفری

MORE BYعلی سردار جعفری

    صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے

    جل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہے

    خنجروں کی سازش پر کب تلک یہ خاموشی

    روح کیوں ہے یخ بستہ نغمہ بے زباں کیوں ہے

    راستہ نہیں چلتے صرف خاک اڑاتے ہیں

    کارواں سے بھی آگے گرد کارواں کیوں ہے

    کچھ کمی نہیں لیکن کوئی کچھ تو بتلاؤ

    عشق اس ستم گر کا شوق کا زیاں کیوں ہے

    ہم تو گھر سے نکلے تھے جیتنے کو دل سب کا

    تیغ ہاتھ میں کیوں ہے دوش پر کماں کیوں ہے

    یہ ہے بزم مے نوشی اس میں سب برابر ہیں

    پھر حساب ساقی میں سود کیوں زیاں کیوں ہے

    دین کس نگہ کی ہے کن لبوں کی برکت ہے

    تم میں جعفریؔ اتنی شوخیٔ بیاں کیوں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے