سکھ اسی ایک بات کا ہے مجھے

دھیریندر سنگھ فیاض

سکھ اسی ایک بات کا ہے مجھے

دھیریندر سنگھ فیاض

MORE BYدھیریندر سنگھ فیاض

    سکھ اسی ایک بات کا ہے مجھے

    میرا باطن ہی آئنا ہے مجھے

    ان سے اظہار کی توقع ہے

    تیری آنکھوں میں دیکھنا ہے مجھے

    آپ کا ہجر آخری دکھ ہے

    آپ کا عشق دوسرا ہے مجھے

    سانس در سانس کر رہا ہوں ادا

    اور یہ زندگی بھی کیا ہے مجھے

    مجھ کو آواز اب نہیں درکار

    میری خاموشی ہی صدا ہے مجھے

    کام دنیا کے کر لیے سارے

    محض اب اس کو بھولنا ہے مجھے

    ایک مجھ میں ہے مبتلا دنیا

    آدمی کتنا سوچتا ہے مجھے

    یعنی بینائی تک چلی جائے

    یہی رونے کی انتہا ہے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY