سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا

دیپک قمر

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا

دیپک قمر

MORE BYدیپک قمر

    سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا

    جانے کیا پیغام دھرتی کے لئے وہ لائے گا

    پھول اک دن خواہشوں کا دھوپ میں کمہلائے گا

    پتیاں بکھریں گی اس کی بیج ہی رہ جائے گا

    بانٹ کر آئے گا سب کچھ شہر کے بازار میں

    ہر مہینے خالی جیبیں گھر کو وہ دکھلائے گا

    تو ہواؤں سا گزر دامن بچا کر راہ سے

    پھول کا تو کام ہے ہنس ہنس کے وہ بہکائے گا

    ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے سورج اور ستارے ہر طرف

    کر کے تانڈو شو سبھی برہمانڈ کو بکھرائے گا

    اس کے غصے سے بگولے اٹھ رہیں ہیں دھوپ میں

    گرم دل صحرا جو بولا آگ ہی برسائے گا

    ایک ہی چبھتا سا کانٹا ان کی پرتوں میں نہیں

    پھول سی باتیں ہیں اس کی سب کو ہی مہکائے گا

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY