سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

احترام اسلام

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

احترام اسلام

MORE BYاحترام اسلام

    سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

    آسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہو

    خواب میں مجھ کو نظر آتی ہیں بھیگی سیپیاں

    آنکھ کھلنے پر تری آنکھوں میں پانی ہو نہ ہو

    ساتھ ہوتی ہے مرے ہر گام پر سنجیدگی

    ہو رہی ہے دور اب مجھ سے جوانی ہو نہ ہو

    ہر جگہ نکلے گی تیری بات مجھ کو دیکھ کر

    تذکرہ تیرا کہیں میری زبانی ہو نہ ہو

    روشنی دیتے رہیں گے مجھ کو زخموں کے چراغ

    اب اندھیرے میں کہیں سے ضو فشانی ہو نہ ہو

    اک طرف میری انا ہے اک طرف تیری خوشی

    آ گیا میرے لیے پل امتحانی ہو نہ ہو

    زہر کا پانی میں ہونا طے شدہ ہے احترامؔ

    آگہی کے گھاٹ پر دریا میں پانی ہو نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY