Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ

وحشت کلکتوی

سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ

وحشت کلکتوی

MORE BYوحشت کلکتوی

    سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ

    ہوا وہ بزم مے میں بے حجاب آہستہ آہستہ

    رخ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہ

    کہ جیسے ہو طلوع آفتاب آہستہ آہستہ

    کیا جب شوق نے اس سے خطاب آہستہ آہستہ

    حیا نے بھی دیا آخر جواب آہستہ آہستہ

    وہ مستی خیز نظریں رفتہ رفتہ لے اڑیں مجھ کو

    کیا کاشانۂ دل کو خراب آہستہ آہستہ

    بڑھا ہنگامۂ شوق اس قدر بزم حریفاں میں

    کہ رخصت ہو گیا اس کا حجاب آہستہ آہستہ

    کیا کامل ہمیں اک عمر میں سوز محبت نے

    ہوئے ہم آتش غم سے کباب آہستہ آہستہ

    عبث تھا ضبط کا دعویٰ ستم اس کے ستم نکلے

    نگاہیں ہو گئیں آخر پر آب آہستہ آہستہ

    دبستان وفا میں عمر بھر کی صفحہ گردانی

    سمجھ میں آئی الفت کی کتاب آہستہ آہستہ

    بقدر شوق اسے تاب طپیدہ تھی کہاں قاتل

    کیا بسمل نے تیرے اضطراب آہستہ آہستہ

    بلا ہیں شاہدان شہر وحشتؔ مے پرستی میں

    ہوا میں ان کی صحبت میں خراب آہستہ آہستہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے