سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

اختر شیرانی

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

    گنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے

    شہر سلمیٰ ہے سر راہ گھٹائیں ہم راہ

    ساقیا آج تو دور مے و پیمانہ چلے

    اس طرح ریل کے ہم راہ رواں ہے بادل

    ساتھ جیسے کوئی اڑتا ہوا مے خانہ چلے

    شہر جاناں میں اترنے کی تھی ہم پر قدغن

    یوں چلے جیسے کوئی شہر سے بیگانہ چلے

    گرچہ تنہا تھے مگر ان کے تصور کے نثار

    اپنے ہمراہ لیے ایک پری خانہ چلے

    کھیل امید کے دیکھو کہ نہ کی ان کو خبر

    پھر بھی ہم منتظر جلوۂ جانانہ چلے

    ان کا پیغام نہ لائے ہوں یہ رنگیں بادل

    ورنہ کیوں ساتھ مرے بے خود و مستانہ چلے

    گھر سے بہ عشرت شاہانہ ہم آئے تھے مگر

    ان کے کوچے سے چلے جب تو فقیرانہ چلے

    بادلو خدمت سلمیٰ میں یہ کہہ دو جا کر

    کہ ترے شہر میں ہم آ کے غریبانہ چلے

    حسرت و شوق کے عالم میں چلے یوں اخترؔ

    مسکراتا ہوا جیسے کوئی دیوانہ چلے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY