صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائے

نبیل احمد نبیل

صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائے

    جب بھی چاہے وہ مجھے اپنا بنا کر لے جائے

    دل کو رکھا ہے سر راہ محبت کب سے

    کوئی تو آئے ادھر اور اٹھا کر لے جائے

    رات بھر جاگتا رہتا ہوں میں اس خوف کے ساتھ

    تجھ کو مجھ سے نہ کوئی شخص چرا کر لے جائے

    جب بھی آتی ہے کسی اور سے آندھی اکثر

    میرے آنگن سے ترے نقش اٹھا کر لے جائے

    دعوت عام ہے اس جان کے دشمن کو مجھے

    تلخیاں ماضی کی اس بار بھلا کر لے جائے

    جب بھی تعبیر کا امکان نظر آتا ہے

    میری آنکھوں سے کوئی خواب چرا کر لے جائے

    میں تو اس شخص سے کہتا رہا ہر بار نبیلؔ

    مجھ کو دو بول محبت کے سنا کر لے جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY