تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

ہیرا لال فلک دہلوی

تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

ہیرا لال فلک دہلوی

MORE BYہیرا لال فلک دہلوی

    تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

    میرا وطن زمیں ہے مجھے آسماں سے کیا

    ٹکڑے جگر کے ہوں کہ ٹپکتا ہو خون دل

    عنواں جو تم نہیں تو تمہیں داستاں سے کیا

    جینا جو جانتا ہو تڑپ کر ترے بغیر

    اس کو تری گلی سے ترے آستاں سے کیا

    ان کا نہ سامنا ہو اسی میں ہے عافیت

    کیا جانئے کہ نکلے ہماری زباں سے کیا

    اترے گا جب خمار وہی ہوں گے رنج و غم

    دل کو سکوں ملے گا مے ارغواں سے کیا

    اے دل ہے کس لئے تجھے آوارگی کا شوق

    تو بھی بچھڑ گیا ہے کسی کارواں سے کیا

    غم ہے شکست کا نہ خوشی فتح کی فلکؔ

    مجھ کو عمل سے کام ہے سود و زیاں سے کیا

    مأخذ :
    • کتاب : Harf-o-sada (Pg. 128)
    • Author : Hira lal Falak Dehlvi
    • مطبع : Hira lal Falak Dehlvi (1982)
    • اشاعت : 1982

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY