تہہ بہ تہہ ہے راز کوئی آب کی تحویل میں

عالم خورشید

تہہ بہ تہہ ہے راز کوئی آب کی تحویل میں

عالم خورشید

MORE BYعالم خورشید

    تہہ بہ تہہ ہے راز کوئی آب کی تحویل میں

    خامشی یوں ہی نہیں رہتی ہے گہری جھیل میں

    میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی

    آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں

    ہر گھڑی احکام جاری کرتا رہتا ہے یہ دل

    ہاتھ باندھے میں کھڑا ہوں حکم کی تعمیل میں

    کب مری مرضی سے کوئی کام ہوتا ہے تمام

    ہر گھڑی رہتا ہوں میں کیوں بے سبب تعجیل میں

    مانگتی ہے اب محبت اپنے ہونے کا ثبوت

    اور میں جاتا نہیں اظہار کی تفصیل میں

    مدعا تیرا سمجھ لیتا ہوں تیری چال سے

    تو پریشاں ہے عبث الفاظ کی تاویل میں

    اپنی خاطر بھی تو عالمؔ چیز رکھنی تھی کوئی

    اب کہاں کچھ بھی بچا ہے تیری اس زنبیل میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY