تخلیق کے پردے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں

کوثر جائسی

تخلیق کے پردے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں

کوثر جائسی

MORE BYکوثر جائسی

    تخلیق کے پردے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں

    آزر ہی کے ہاتھوں سے صنم ٹوٹ رہے ہیں

    ڈھائی کہیں جاتی ہے جو تعمیر محبت

    محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم ٹوٹ رہے ہیں

    سلجھے نہ مسائل غم و افلاس کے لیکن

    تفسیر مسائل میں قلم ٹوٹ رہے ہیں

    بے فیض گزر جاتے ہیں گلشن سے ہمارے

    موسم کے بھی اب قول و قسم ٹوٹ رہے ہیں

    رقاص شبستان ہوس تجھ کو خبر ہے

    آئینے ترے زیر قدم ٹوٹ رہے ہیں

    رات اور جواں ہو تو اجالا ہو فضا میں

    پلکوں سے ستارے ابھی کم ٹوٹ رہے ہیں

    بے دار ہوئے جاتے ہیں ایجاد کے شعلے

    ہر لحظہ طلسمات عدم ٹوٹ رہے ہیں

    اللہ رے کشش اس نگہ زہد شکن کی

    مرکز سے غزالان حرم ٹوٹ رہے ہیں

    اللہ کے ہوتے مجھے کیوں فکر ہو کوثرؔ

    بندوں کے جو آئین کرم ٹوٹ رہے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Nishat-e-Fikr (Pg. 125)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY