تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور

علی سردار جعفری

تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور

علی سردار جعفری

MORE BYعلی سردار جعفری

    تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور

    اس آدم خاکی نے بنایا ہے جہاں اور

    یہ صبح ہے سورج کی سیاہی سے اندھیری

    آئے گی ابھی ایک سحر مہر چکاں اور

    بڑھنی ہے ابھی اور بھی مظلوم کی طاقت

    گھٹنی ہے ابھی ظلم کی کچھ تاب و تواں اور

    تر ہوگی زمیں اور ابھی خون بشر سے

    روئے گا ابھی دیدۂ خونابہ فشاں اور

    بڑھنے دو ذرا اور ابھی کچھ دست طلب کو

    بڑھ جائے گی دو چار شکن زلف بتاں اور

    کرنا ہے ابھی خون جگر صرف بہاراں

    کچھ دیر اٹھانا ہے ابھی ناز خزاں اور

    ہم ہیں وہ بلاکش کہ مصائب سے جہاں کے

    ہو جاتے ہیں شائستۂ غم ہائے جہاں اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے