تلاش میں نے زندگی میں تیری بے شمار کی

عمران بدایوںی

تلاش میں نے زندگی میں تیری بے شمار کی

عمران بدایوںی

MORE BY عمران بدایوںی

    تلاش میں نے زندگی میں تیری بے شمار کی

    جو تو نہیں ملا تو تجھ سی شکل اختیار کی

    تقاضہ کرنے موت آئی تب مجھے پتہ لگا

    ابھی تلک میں لے رہا تھا سانس بھی ادھار کی

    تھی سرد یاد کی ہوا میں دشت میں تھا ماضی کے

    نہ پوچھئے جناب میں نے کیسے رات پار کی

    تمام شب گزر گئی بس ایک اس امید میں

    پلٹ کے آئے گی صدا کبھی تو اس پکار کی

    ٹھٹھر رہے ہیں کیوں بھلا خدا کے ہی تو ہم بھی ہیں

    چلو اٹھا کے اوڑھ لیں وہ چادریں مزار کی

    جلا دیں میں نے ذہن کی کتابیں ساری اس لئے

    کہ داستان تھی سبھی میں اس کے انتظار کی

    بکھیرتی ہے شب مجھے سمیٹ لیتی ہے سحر

    میں چاہتا ہوں ختم ہو یہ جنگ بار بار کی

    مجھے غرور توڑنا تھا موج کا اسی لیے

    اتر پڑا میں ناؤ سے بدن سے ندی پار کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY