تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

عدیم ہاشمی

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

    تڑپ اٹھا مرا منصف بھی فیصلہ دے کر

    میں اب مروں کہ جیوں مجھ کو یہ خوشی ہے بہت

    اسے سکوں تو ملا مجھ کو بد دعا دے کر

    میں اس کے واسطے سورج تلاش کرتا ہوں

    جو سو گیا مری آنکھوں کو رت جگا دے کر

    وہ رات رات کا مہماں تو عمر بھر کے لیے

    چلا گیا مجھے یادوں کا سلسلہ دے کر

    جو وا کیا بھی دریچہ تو آج موسم نے

    پہاڑ ڈھانپ دیا ابر کی ردا دے کر

    کٹی ہوئی ہے زمیں کوہ سے سمندر تک

    ملا ہے گھاؤ یہ دریا کو راستہ دے کر

    چٹخ چٹخ کے جلی شاخ شاخ جنگل کی

    بہت شرار ملا آگ کو ہوا دے کر

    پھر اس کے بعد پہاڑ اس کو خود پکاریں گے

    تو لوٹ آ اسے وادی میں اک صدا دے کر

    ستون ریگ نہ ٹھہرا عدیمؔ چھت کے تلے

    میں ڈھ گیا ہوں خود اپنے کو آسرا دے کر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY