تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم

بسمل  عظیم آبادی

تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم

    گھبرا کے پوچھتے ہیں اکیلے میں جی سے ہم

    مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم

    لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

    کمبخت دل کی مان گئے، بیٹھنا پڑا

    یوں تو ہزار بار اٹھے اس گلی سے ہم

    یا رب! برا بھی ہو دل خانہ خراب کا

    شرما رہے ہیں اس کی بدولت کسی سے ہم

    دن ہی پہاڑ ہے شب غم کیا ہو کیا نہ ہو

    گھبرا رہے ہیں آج سر شام ہی سے ہم

    دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار

    گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

    مطلب یہی نہیں دل خانہ خراب کا

    کہنے میں اس کے آئیں گزر جائیں جی سے ہم

    چھیڑا عدو نے روٹھ گئے ساری بزم سے

    بولے کہ اب نہ بات کریں گے کسی سے ہم

    تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی

    جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اسی سے ہم

    محفل میں اس نے غیر کو پہلو میں دی جگہ

    گزری جو دل پہ کیا کہیں بسملؔ کسی سے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY