تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں

ماہر عبدالحی

تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں

    آواز کوئی دے تو قدم گھر سے نکالوں

    دنیا اسے پوجے گی بصد حسن عقیدت

    میں اپنی شباہت کو جو پتھر سے نکالوں

    کھو جاؤں کہیں تیرہ‌ خلاؤں میں تو کیا ہو

    خود کو جو ترے درد کے محور سے نکالوں

    جو دوست نظر آتے ہیں بن جائیں گے دشمن

    کیا منہ سے نہ سچ بات بھی اس ڈر سے نکالوں

    حساس ہو دنیا تو جو نشتر سے ہے مخصوص

    وہ کام بھی میں برگ گل تر سے نکالوں

    دشوار سہی پھر بھی کوئی صلح کا پہلو

    حالات کے بگڑے ہوئے تیور سے نکالوں

    صدیوں سے لگی پیاس کو ماہرؔ جو بجھا دے

    وہ جرعۂ زہراب سمندر سے نکالوں

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 83)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY