تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں

اسلم سیفی

تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں

اسلم سیفی

MORE BYاسلم سیفی

    تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں

    تدبیر لے اڑے گی مجھے آسمان میں

    اب اور صبر کا تجھے کیا چاہئے خراج

    میں نے تو اپنی جان بھی دے دی لگان میں

    اس کا بھی آج بیٹا ہوا موت کا شکار

    جو بیچتا تھا نقلی دوائیں دکان میں

    تفریق کا مریض تعصب کا ہو شکار

    ایسا نہیں ہے کوئی میرے خاندان میں

    شہر ادب میں ڈھونڈنا مشکل نہیں مجھے

    میں ہوں کرایہ دار غزل کے مکان میں

    سیفیؔ مٹھاس کس میں ہے اتنی بتائیے

    جتنی مٹھاس ہے میری اردو زبان میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے