تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے

طارق عثمانی

تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے

طارق عثمانی

MORE BYطارق عثمانی

    تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے

    یہ کوئی ان کہی شکایت ہے

    ہجر کے دکھ پہ یار حیرت کیا

    مستقل وصل بھی اذیت ہے

    تجھ کو اب بھولنے لگا ہوں میں

    یہ شکایت نہیں ہے تہمت ہے

    خوشبوؤں سے بنائیں گے تم کو

    رنگ سے تو بڑی سہولت ہے

    دیکھا جائے تو مر چکے ہیں ہم

    سانس لینا تو بس ضرورت ہے

    تو مرا ہے تو میرے درد سمجھ

    مسکرانا تو میری عادت ہے

    کیا کیا درد کی دوا لے لی

    میرے بیمار تجھ پہ لعنت ہے

    میں بس اس وقت اپنے پاس رہا

    جب لگا آپ کی ضرورت ہے

    تیرے لب ہائے تیرے شیریں لب

    بوسہ لے لوں اگر اجازت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY