تیری وفا پر شک ہے مجھ کو بات نہ کر بے لاگ ہوا

شوق اثر رامپوری

تیری وفا پر شک ہے مجھ کو بات نہ کر بے لاگ ہوا

شوق اثر رامپوری

MORE BYشوق اثر رامپوری

    تیری وفا پر شک ہے مجھ کو بات نہ کر بے لاگ ہوا

    ان کی خوشبو لے کے نہ آئی بھاگ یہاں سے بھاگ ہوا

    دیتے ہیں نفرت کا اجالا نفرت کے ناپاک دیے

    کیوں نہ بجھائے تو نے اب تک وقت اذاں ہے جاگ ہوا

    چھپر کچھ باقی ہیں اب بھی ناداروں کی قسمت سے

    شعلوں نے جب تیاگ دیا ہے تو بھی ان کو تیاگ ہوا

    قسمت میں جل جانا ہو تو گھر سے گھر کی دوری کیا

    پل بھر میں اڑتے کاندھوں پر لے جاتی ہے آگ ہوا

    نفرت کے سب کالے چہرے نظروں میں آ جائیں گے

    شوقؔ جو گھر گھر دیپ جلا دے گا کر دیپک راگ ہوا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY