ٹھوکریں کھائیے پتھر بھی اٹھاتے چلئے

نوشاد علی

ٹھوکریں کھائیے پتھر بھی اٹھاتے چلئے

نوشاد علی

MORE BYنوشاد علی

    ٹھوکریں کھائیے پتھر بھی اٹھاتے چلئے

    آنے والوں کے لیے راہ بناتے چلئے

    اپنا جو فرض ہے وہ فرض نبھاتے چلئے

    غم ہو جس کا بھی اسے اپنا بناتے چلئے

    کل تو آئے گا مگر آج نہ آئے گا کبھی

    خواب غفلت میں جو ہیں ان کو جگاتے چلئے

    عزم ہے دل میں تو منزل بھی کوئی دور نہیں

    سامنے آئے جو دیوار گراتے چلئے

    نفرتیں فاصلے کچھ اور بڑھا دیتی ہیں

    گیت کچھ پیار کے ان راہوں میں گاتے چلئے

    راہ دشوار ہے بے سایہ شجر ہیں سارے

    دھوپ ہے سر پہ قدم تیز بڑھاتے چلئے

    کام یہ اہل جہاں کا ہے سنیں یا نہ سنیں

    اپنا پیغام زمانے کو سناتے چلئے

    دل میں سوئے ہوئے نغموں کو جگانا ہے اگر

    میری آواز میں آواز ملاتے چلئے

    راستے جتنے ہیں سب جاتے ہیں منزل کی طرف

    شرط منزل ہے مگر جھومتے گاتے چلئے

    کچھ ملے یا نہ ملے اپنی وفاؤں کا صلہ

    دامن رسم وفا اپنا بڑھاتے چلئے

    یوں ہی شاید دل ویراں میں بہار آ جائے

    زخم جتنے ملیں سینے پہ سجاتے چلئے

    جب تلک ہاتھ نہ آ جائے کسی کا دامن

    دھجیاں اپنے گریباں کی اڑاتے چلئے

    شوق سے لکھیے فسانا مگر اک شرط کے ساتھ

    اس فسانے سے مرا نام مٹاتے چلئے

    آج کے دور میں نوشادؔ یہی بہتر ہے

    اس برے دور سے دامن کو بچاتے چلئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY